43

ادا جعفری نے اردو غزل نمایاں مقام حاصل کیا

لاہور: امانت علی خان کی گائی ہوئی یہ غزل جب بھی سنی جاتی ہے ایسا لگتا ہے کسی نے دل کے تاروں کو چھو لیا ہو ۔ ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے ، آئے تو سہی برسرالزام ہی آئے عام رائے یہی ہے کہ اس غزل نے ادا جعفری اور امانت علی خان دونوں کو امر کر دیا ۔ 22 اگست 1924ء کو بدایوں (بھارت) میں پیدا ہونے والی ادا جعفری کا اصل نام عزیز جہاں تھا ۔ وہ ادیبہ بھی تھیں ۔ اردو ادب کی تاریخ میں انہیں ممتاز مقام حاصل ہے ۔ انہیں نہ صرف پاکستان رائٹرز گلڈ حکومت پاکستان کی طرف سے ایوارڈ ملے بلکہ شمالی امریکہ اور یورپ نے بھی ان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں ایوارڈ دئیے ۔ ادا جعفری صرف تین برس کی تھیں جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد ان کی والدہ نے ان کی پرورش کا کام سنبھال لیا ۔
بارہ برس کی عمر میں انہوں نے شعر کہنے شروع کر دئیے ۔ ان کے شوہر نورالحسن اس وقت کی بھارتی حکومت میں اعلیٰ افسر تھے ۔ تقسیم ہند کے بعد ادا جعفری اپنے شوہر کے ساتھ کراچی آ گئیں ۔ ان کے شوہر کو خود ادب سے لگائو تھا اور وہ انگریزی اور اردو اخبارات میں کالم لکھا کرتے تھے ۔ انہوں نے انجمن ترقی اردو کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں ۔ نور الحسن 3 دسمبر 1995ء کو خالق حقیقی سے جا ملے ۔ ادا جعفری اکثر کراچی سے ٹورنٹو کا سفر کرتی تھیں اورا س کا مقصد اردو زبان کی ترقی تھا۔ ان کا تعلق ایک روایتی اور قدامت پسند خاندان سے تھا جو خواتین کو اظہار رائے کی آزادی دینے کے خلاف تھا ۔ لیکن انہوں نے جرأت کا مظاہرہ کیا اور اظہار آزادی کا حق حاصل کر لیا ۔ انہوں نے جدید آرٹ میں حصہ لیا ۔ 1950ء میں ادا جعفری کو اردو شاعری کی خاتون اول تسلیم کر لیا گیا ۔ سماجی مشکلات کے باوجود ان کے شوہر اور ان کی والدہ قدم قدم پر ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ۔
وہ اختر شیرانی اور جعفر علی خان اثر لکھنوی جیسے شعرا سے رہنمائی لیتی رہیں ۔ وہ ان کی شاعری کی اصلاح کرتے رہے ۔ ادا جعفری کی شاعری میں خواتین کے حقوق اور ان کی پامالی کی بات کی جاتی ہے ۔ انہوں نے ایک بیوی اور ماں کی حیثیت سے اپنے تجربات کو بیان کیا ۔ ادا جعفری کا اصل میدان غزل تھا لیکن انہوں نے آزاد نظم بھی لکھی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے اردو ہائیکو میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کچھ مضامین بھی تحریر کئے ۔ ان کی پہلی غزل اختر شیرانی کے جریدے رومان میں 1945ء میں شائع ہوئی ۔ 1950ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ میں ساز ڈھونڈتی رہی منظرعام پر آیا ۔ 1987ء میں ان کی ایک بہت اہم کتاب غزل نما شائع ہوئی ۔ اس کتاب میں انہوں نے ماضی کے اردو شاعروں کے مختصر مضامین ، مختصر سوانح حیات اور اپنے تبصرے شامل کیے ۔ اس کے علاوہ ان کی شاعری کے پانچ مجموعے شائع ہوئے جن میں شہر درد ، غزلیں ، تم تو واقف ہو ، حرف شناسا ، سفر باقی اور موسم شامل ہیں ۔ ان کی خودنوشت بھی بہت مقبول ہوئی ۔
ان کا اردو ہائیکو کا مجموعہ ساز سخن بہانہ کے نام سے منظرعام پر آیا ۔ ادا جعفری کے بارے میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان کے بعد آنے والی خواتین شعرا نے ان سے بہت کچھ حاصل کیا ۔ وہ تمام خواتین شعرا کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ ان کے بعد جن خواتین شعرا نے نام کمایا ان میں پروین شاکر ، فہمیدہ ریاض ، کشور ناہید ، سارہ شگفتہ ، یاسمین حمید اور شاہدہ حسن کے نام لیے جا سکتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان خواتین شعرا نے بھی بڑی معیاری شاعری کی ۔ ان میں ہر ایک کا مقام و مرتبہ اپنی جگہ مسلمہ ہے لیکن ادا جعفری کے ساتھ کسی کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا ۔ غزل اور نظم میں جو تجربے انہوں نے کیے ان کی مثال کم ہی ملتی ہے ۔ خواتین کے حقوق کی علمبردار ہونے کی حیثیت سے ان کا کہنا تھا کہ میں نے مردوں کی عائد کردہ پابندیوں کو قبول نہیں کیا بلکہ ان پابندیوں کو قبول کیا جو میرے ذہن نے مجھ پر عائد کی ہیں۔ میرے خیال میں بات کو بین السطور کہنا زیادہ مناسب ہے ۔ نقادوں کی ان کے بارے میں یہ رائے ہے کہ ادا جعفری کی شاعری شائستگی اور سلاست سے بھرپور ہے ۔
ان کی شاعری میں ہمیں پرانے اور نئے خیالات کا بڑا حسین امتزاج ملتا ہے ۔ وہ تویہ بھی کہتے ہیں کہ ادا جعفری کی شاعری میں غالب‘ اقبالؒ اور جگر مراد آبادی کی پرچھائیاں ملتی ہیں۔ 1955ء میں انہیں ہمدرد فائونڈیشن نیو دہلی ممتاز ترین شاعرہ تسلیم کیا۔ 1967ء میں انہیں ان کے دوسرے شعری مجموعے شہر درد پر پاکستان رائٹرز گلڈ کی طرف سے آدم جی ادبی ایوارڈ دیا گیا ۔ 1981ء میں حکومت پاکستان نے اردو ادب کیلئے ان کی بے پایاں خدمات پر انہیں تمغہ امتیاز دیا۔ 1994ء میں اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے انہیں بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ایوارڈ دیا گیا۔ پھر 1997ء میں انہیں قائداعظم ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی عالمی ایوارڈ بھی حاصل کئے۔ 2002ء میں حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ 2003ء میں اکادمی ادبیات پاکستان نے انہیں کمال فن ایوارڈ بھی دیا۔12مارچ 2015ء کو ادا جعفری 90 برس کی عمر میں عالم جاوداں کو سدھار گئیں۔ اردو شاعری کی خاتون اول کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں