449

جے آئی ٹی رپورٹ اورخدشات


نصرت امین
کیا یہ واقعی خوش ہونے کا موقع ہے؟ کیا اَب حقیقت میں ملک میں انصاف کا نظام کسی بدعنوان کو ایوان ِ اقتدار میں آنے یا وہاں زیادہ دیر ٹھہرنے کا موقع نہیں دے گا؟ کیا یہ سچ ہے کہ اَب کسی چور یا اُچکّے کو اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے قوم کی دولت لوٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی؟ پاناما کیس میں جے آئی ٹی رپورٹ کے عدالت عظمیٰ میں پیش ہونے پر جشن منانے سے پہلے اِن سوالوں کا جواب جان لینا ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں ہے۔
نواز شریف اور ان کے اہل خانہ پر جے آئی ٹی رپورٹ میں درج الزامات کے اگر شواہد حقیقتاً دستیاب ہیں تو ان کے خلاف بغیر کسی تردّد کے مقدمات کا درج ہونا ضروری ہے۔ لیکن خدشہ یہ ہے کہ ملک کے دیگر بدنام اور بدعنوان سیاست دانوں اور سرکاری افسران کا اگر بالکل اِسی انداز میں محاسبہ نہ کیا گیا تو یہ کیا یہ تمام تر کارروائی، ماضی کی طرح اِس بار بھی، ’سلیکٹو جسٹس (Selective Justice)‘ یعنی ـ’امتیازی عدل‘ پر مبنی کارروائی کے سوا اور کچھ نہیں؟ ماضی میں بارہا سیاسی شخصیات اور گروہوں کے خلاف کارروائیاں محض سیاسی مخاصمت کے سبب عمل میں لائی جاتی رہی ہیں! ساتھ ہی ساتھ سیاسی منظر نامے کی تبدیلی کی خاطر بھی سیاست دانوں کے خلاف سچے یا جھوٹے مقدمات درج کر کے انہیں بے اثر یا بے دخل کیا جاتا رہا ہے۔
پاکستان میں ’امتیازی احتساب‘ پر مبنی واقعات خاص ’ماحول سازی‘ کے بعد رُونما ہوتے رہے ہیں؛ خاص طور پر جب منتخب حکمراں اور مقتدر حلقے کچھ حساس یا خاص معاملات پر ایک دوسرے کے تحفظات دور کرنے میں ناکام رہے ہوں یا کوئی منتخب حکومت اِن حلقوں کی توقعات پوری کرنے میں ناکام ہوگئی ہو! ایسی صورتحال میں منتخب حکمرانوں کے سیاہ اعمال نامے سامنے رکھ کر اِنہیں ایوانِ اقتدار یا سیاسی منظر نامے سے مکمل طور پر بے دخل کیا جاتا رہا ہے۔ سال 1979میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، بے نظیر بھٹو کی 1988اور 1993اور نواز شریف کی 1990اور 1997میں منتخب ہونے والی حکومتوں کی ایک کے بعد ایک برطرفیاں اور ایم کیو ایم کے ساتھ سلوک پاکستان میں ’امتیازی عدل‘ کی واضح اور بد ترین مثالیں ہیں !
دوسری جانب ملک میں اگر انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کی گئی تو فرقہ واریت کو ہوا دینے والے عناصر پھر بھی دندناتے پھرتے رہے۔ شہروں میں دہشت پھیلانے والی سیاسی تنظیموں کے خلاف یقیناً موثر کارروائی ہوئی لیکن ملتے جلتے جرائم میں ملوث دیگر پریشر گروپس بغیر کسی روک ٹوک کے وارداتیں کرتے رہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اگر کسی نیوز چینل کو مبینہ طور پر قابل اعتراض پروگرام پیش کرنے پر جزوی یا مکمل طور پر بندش کا سامنا کرنا پڑا تو اِسی دوران کہیں زیادہ اشتعال انگیز اور قابل اعتراض پروگرامز پیش کرنے کے باوجود کچھ نیوز چینلز کی نشریات بغیر کسی بندش یا رکاوٹ کے جاری و ساری رہیں ۔
ملک کی سیاسی تاریخ میں بارہا بدعنوانی یا جرائم میں ملوث سیاست دانوں کی حکومتوں کے فارغ ہونے کے بعد قوم کو پھر اُنہیں جیسے یا پھر اُن سے کہیں زیادہ بد عنوان، اَقربا پرور اور سنگین مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث حکمرانوں کو بھگتنا پڑا ہے! یعنی جب تک احتساب کے تمام تر عمل میں امتیازی ذہنیت اور تخصیص کی نیت فعال رہے گی ایسے حالات ناگزیر طور پر پیدا ہوتے رہیں گے۔ لہذا اگر معاملہ خاکم بدہن اِس بار بھی کچھ ایسا ہی ہے تو میں ابھی بغیر کسی ہچکچاہٹ کے یہ خبر دیتا ہوں کہ اِس نئی پیش رفت پر کسی قسم کا جشن منانے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا۔ ایک طرف نوازشریف کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کر دئیے جاتے ہیں اور دوسری طرف بینکوں سے لیا ہوا بھاری قرضہ معاف کروانے، اختیارات کا غلط استعمال کر کے اپنی تجوریاں بھرنے اور عوام کا سرمایہ سوئس بنکوں میں منتقل کرنے والے دیگر سیاست دان اور’افسران‘ آزاد گھومتے رہے تو آج کا یہ جشن آئندہ کسی اجتماعی ملال کا باعث بن سکتاہے۔
اُدھر پیر کے دن جے آئی ٹی رپورٹ کے مندرجات سامنے آتے ہی الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر انتہائی غیر معمولی صورتحال دیکھنے، سننے اور پڑھنے کو ملی۔ سارا دن یوں لگتا رہا گویا مقدمے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے بجائے کسی نواز مخالف نیوز چینل کے اسٹوڈیو میں سنایا جانے والا ہے۔ اَکثریت کا خیال تھا کہ وزیراعظم کسی بھی وقت گرفتار ہوسکتے ہیں۔ حالاں کہ سچ یہ ہے کہ اس مقدمے میں بہت کچھ ہونا ابھی باقی ہے۔
فی الحال کہا جاسکتا ہے کہ اِس جے آئی ٹی رپورٹ کی حیثیت اُس پولیس چالان جیسی ہے جو کسی ملزم کے خلاف مقدمے کے ابتدائی مراحل میں عدالت کے روبرو پیش کیا جاتا ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ پر غوروخوض کے بعد عدالت عظمیٰ کا فیصلہ کلی یا جزوی طور پر رپورٹ کے مندرجات کے مطابق ہوسکتا ہے۔ یعنی ممکن ہے کہ رپورٹ میں درج مقدمے کو نیب میں بھیجنے کے لئے کی گئی سفارشات مان لی جائیں۔ ایسی صورت میں نیب کی جانب سے کارروائی کی تکمیل پر باقاعدہ چالان متعلقہ عدالت میں پیش کیا جاسکے گا۔ قانونی نقطہ نظر سے اس مرحلے پر نواز شریف اور اہل خانہ کے پاس اپنے دفاع کے لئے دو مواقع موجود ہیں۔ ایک یہ کہ وہ پہلے نیب کے تحت ہونے والی تحقیقات کے دوران اپنا دفاع کرسکتے ہیں اور پھر عدالت میں مقدمے کی باقاعدہ کارروائی کے دوران! اور کیوں کہ وزیراعظم کو اس طرح کے مقدمات میں کوئی خاص ایمنسٹی حاصل نہیں اس لئے اِنہیں مقدمے سے متعلق تمام تر مراحل سے گزرنا ہوگا۔ نیب میں مقدمے کی منتقلی کی صورت میں عین ممکن ہے کہ نواز شریف اور اہل خانہ کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر ضمانت قبل از گرفتاری کے لئے درخواستیں دائر کردیں ۔
شاید کوئی اِس پہلو پر روشنی ڈالنے سے فی الحال گریز کرے کہ اگر نوازشریف کے خلاف دستیاب شہادتیں عدالت میں ناکافی ثابت ہوئیں اوروہ کسی طرح سزا اور نااہل قرار دئیے جانے کے خطرات سے بچ نکلے تو قوی امکان ہے کہ انتخابی تناظر میں اِن کی مقبولیت میں اضافہ ہوجائے۔
ایک اور بات یہ کہ اگر کسی لمحے نوازشریف کے ذہن میں تحقیقات کا کوئی نتیجہ آنے سے پہلے، اقتدار سے دستبردار ہونے کا خیال آگیا تو یہ قدم بلاشبہ اِن حالات میں بھی اِن کی بڑی سیاسی کامیابی ثابت ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ اس نئی صورتحال میں اِ ن کے بدترین مخالف بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ وہ اِن دِنوں اقتدار سے دستبردار ہوجائیں۔کیوں کہ اُنہیں معلوم ہے کہ نواز شریف کی جانب سے کیا گیا کوئی بھی ایسا قدم اِن کے سیاسی کیرئیر کے بچے کچھے دنوں کو بھی بے سکون اور برباد کرسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں