152

سیاسی پارٹیوں کی اہم توجہ کا مرکز حلقہ NA_120

عروسہ جیلانی
قومی اسمبلی کے حلقے 120_NA میں انتخابی مہم کا آغاز ہو چکا ہے ۔نامزد امید وار اور سیاسی ،جلسے جلوس اور ریلیوں کے انقعاد میں مصروف ہیں ۔اس وقت حلقے میں چار نمایاں سیاسی جماعتیں نظر اتی ہیں ۔ مسلم لیگ (ن )،تحریک انصاف ، پی پی پی اور جماعت اسلامی ۔تاہم اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن )اور تحریک انصاف کے ما بین ہونا ہے ۔ دیکھا جائے تو جن سیاسی حالات سے پچلھے دنوں پالا پڑا تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا یہ مقابلہ میاں نواز شریف اور عمران خان کے درمیان ہے ۔ یہ علاقہ میں نواز شریف کا آبائی حلقہ کے نام سے جانا جاتا ہے میں نواز تقریباً 8 دفع اس حلقے سے کامیابی حاصل کر چکے ہیں ۔اور یہ سلسلہ 1985 سے شروع ہوا ۔2013میں اس حلقے میں تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین نواز شریف کے مقابل تھیں ۔ نواز شریف نے 91,666ووٹ حاصل کیے اور ڈاکٹر یاسمین کو کم و بیش 40ہزار ووٹوں سے شکست دی ۔تا ہم تحریک انصاف کی اس ہار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ نواز شریف جو کہ ایک منجے ہوے سیاست دان ہیں کے مقابل ایک گم نام خاتون نے 52،321ووٹ حاصل کیے۔ اس دافع ڈاکٹر یاسمین کے مقابل سابقہ وزیر اعظم نواز شریف کی بیگم کلثوم نواز کھڑی ہیں ۔عدالتی فیصلے کے بعد جب اس حلقے سے نواز شریف کی سیٹ خالی ہوئی تو قیاس تھا میاں شہباز شریف کو منتخب کیا جائے گا تا کہ قومی اسمبلی میں انے کے بعد وزارت عظمیٰ کو سمبھال سکیں ۔مسلم (ن) کی طرف سے اس بات فیصلے کا اعلان بھی کیا گیا لیکن بعد میں اس فیصلے میں تبدیلی کی گئی ۔دیکھا جائے تو شہباز شریف کو لانا ایک اچھا فیصلہ تھا شہباز شریف ایک تجربہ کار اور انتظامی امور پر گرفت کے حامل وزیر اعظم ثابت ہو سکتے تھے ۔یوں بھی صوبہ پنجاب مسلم لیگ (ن) کا سیاسی قلعہ تصور کیا جاتا ہے ۔لیکن موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوے کہا جا سکتا ہے کہ یہ قلعہ 2018 کے انتخابات کے لئے محفوظ نہیں ۔
بیگم کلثوم کو دیکھا جائے تو ایک لحاظ سے اچھا فیصلہ ہے کیونکہ وہ ایک نام ور شخصیت ہیں ۔1999میں جنرل مشرف نے منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹا تو اس زامنے میں بیگم کلثوم نواز پارٹی میں متحرک رہیں اور آمریت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کے لئے پیش پیش رہیں ۔یعنی وہ ایک تجربہ کار سیاسی خاتون ہیں ۔دوسری طرف ڈاکٹر یاسمین بھی آجکل سیاسی لحاظ سے سر گرم نظر آ رہی ہیں ۔ اپنی انتخابی مہم خود چلا رہی ہیں اور گھر گھر جا کر ووٹ طلب کر رہی ہیں ۔اور جلسے جلوس میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں ۔
یہ الیکشن بے حد اہم ہیں ۔یہ محض قومی اسمبلی کی ایک سیٹ کا مماملہ نہیں ۔مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کیلئے یہ انتخاب کامیابی اسلئے ضروری ہے کا وہ عوام میں اپنے موقف کی قبولیت اور مقبولیت کو ثابت کر سکیں ۔تحریک انصاف کی جیت کا مطلب ہو گا کہ عوام نے عمران خان کی طرف سے شریف خاندان پر لگاے گئے الزامات کو پزیرائی دی ہے ۔جبکہ شکست کا مفہوم یہ ہو گا کا عوام نے ان الزامات کو رد کیا ہے ۔دوسری طرف مسلم (ن) کا موقف یہ ہے کہ نواز شریف کی نا اہلی کا فیصلہ قانون و انصاف کے تقاضوں کے بر عکس ہے ۔نواز شریف کا رعویٰ ہے کہ عوام نے میں نواز شریف کخلاف عدالتی فیصلے کو قبول نہیں کیا یہ انتخاب مریم نواز کی صلاحیتوں کا بھی امتحآن ہے اگرچہ 2013 کی میڈیا کمپین کے معملات بھی دیکھتی رہیں ۔اور حکومتی میڈیا کمپین بھی دیکھتی رہیں مگر اس دفع وہ حلقہ میں مختلف مقامات پر جلسوں میں متحرک نظرآ رہیں ہیں پارٹی کارکنان کی سطح پر آ کر معاملات دیکھنا اور عوام میں جا کر ووٹ طلب کرنا ایک نیا تجربہ ہے ۔ فی الحال تو وہ کامیابی سے سرگرمیاں کر رہی ہیں لیکن اصل کامیابی والدہ کو کامیاب کروانا ہو گا انکے لئے اصل چیلنج یہ ہے کہ 2013 کی نسبت اس دفع زیادہ ووٹ حاصل کریں
پیپلز پارٹی نے بھی اپنے امید وار فیصل میر کو نہ صرف نامزد کیا ہے بلکہ انہیں بلاول بھٹو کی سپورٹ بھی حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے پیپلز پارٹی کی بنا پر ووٹ طلب کرے گی ۔ اسکا سیاسی حکومتی اور حکومتی نامہ عمل کسی بھی کارنامے سے خالی نظر عطا ہے گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی اس حلقہ سے صرف 2 ہزار ووٹ حاصل کر سکی ۔اس صورتحال میں کہیں بہتر تھا کہ اپوزیشن جماعتیں ، اپنا مشترکہ امیدوار لاتیں اور مل کر مسلم لیگ (ن ) کا مقابلہ کرتیں ۔تاہم اپوزیشن اس حوالے سے اتفاق رائے قائم کرنے میں ناکام رہی ۔یھاں تک کہ جماعت اسلامی جو خیبر پختو نخوا میں تحریک انصاف کے اتحادی ہے ،اس نے بھی ڈاکٹر یاسمین راشد کی حمایت کے بجاے اپنا امید وار نامزد کرنے کو ترجیح دی ۔ لہٰذا کسی بھی پارٹی کی جیت کی حتمی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا اس حلقے کے سیاسی انتخابی نتائج سیاسی منظر پر اثر انداز ہوں گے ۔ اور اس حلقے کے نتائج 2018 کے انتخابات کے نتائج کی کسی حد تک عکاسی ہوں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں