355

”شہر جاناں میں اب باصفا کون ہے“


نصرت جاوید
شیکسپیئر کے ڈراموں کو ذرا غور سے بار بار پڑھنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ وہ اپنے شہرئہ آفاق کرداروں کو دانستہ طورپر ”نیک“ اور ”بد“ میں تقسیم نہیں کرتا۔”اچھائی“ ہمیشہ ”برائی“ پر فتح مند ہوتی نظر نہیں آتی۔ اس کے ہاں محض بہت ہی طاقت ور انسان ہوتے ہیں جو حالات کی جکڑ میں آجاتے ہیں۔ ان کے پاس ان حالات سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ ہی باقی نہیں رہتا۔ حالات کے جبر میں ہوئے فیصلے بالآخر عظیم المیوں کو جنم دیتے ہیں۔
80ءکی دہائی کے آغاز کے ساتھ ہی سیاسی اُفق پر نمودار ہونے والے نواز شریف بھی اس وقت شیکسپیئر کے عظیم المیوں میں دکھائے کرداروں میں سے ا یک نظر آرہے ہیں۔ اگرچہ بہت غور کے باوجود میں ان میں سے کسی ایک خاص کردار کو آج کے نواز شریف کی بھرپور عکاسی کرتا ہوا دریافت نہیں کرپایا ہوں۔ میرے ناقص علم کے علاوہ قصوروار میرے اس ضمن میں عجز کا سوشل میڈیا بھی ہے۔ خاص کر ٹویٹر جس پر یاوہ گوئی کرتا میں اپنے دن کے کئی گھنٹے ضائع کردیتا ہوں۔ سوچنے کی صلاحیت کو تباہ کرتا ایک مشغلہ جو انسانی جبلت میں موجود عصبیت کی بھرپور تسکین کرتا ہے۔
اپریل 2016ءمیں جب پانامہ دستاویزات ایک دھماکے کی صورت نمودار ہوئیں تو میں نے انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔ اندھی نفرتوں اور عقیدتوں میں تقسیم ہوئے ہمارے معاشرے کو مزید تقسیم کرنے کے لئے ان دستاویزات نے مگر بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ہوئی سماعتوں کے بعد بالآخر ریاستِ پاکستان کے 6اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنی۔ JITکے نام سے مشہور ہوئی اس کمیٹی کے بارے میں بھی ڈرامائی کہانیاں پھیلیں۔ بالآخر گزشتہ پیر کو اس نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کے روبروپیش کردی۔
256صفحات پر مشتمل اس کمیٹی کا تمام تر مواد نواز شریف کے مخالفین کو یہ بیانیہ تشکیل دینے میں بہت مدد گار ثابت ہورہا ہے کہ 30ءکی دہائی سے محض کاروباری امور سے جڑا شریف خاندان جنرل ضیاءالحق کی سرپرستی میں جب 1980ءسے ملکی سیاست میں درآیا تو اپنی قوت واختیار کو محض اپنے خاندان کے لئے دولت کے انبار جمع کرنے کے لئے استعمال کرتا رہا۔ مبینہ طورپر ناجائز ذرائع سے جمع کی ہوئی دولت کو ریاستی ٹیکس سے بچایااور خلقِ خدا کی نگاہوں سے اوجھل رکھا گیا۔ ان رقوم کی بدولت غیر ممالک میں قیمتی جائیدادیں خریدی گئیں۔ ان میں سے چند پانامہ دستاویزات کی بدولت منکشف ہوئیں تو مسلسل غلط بیانی اور ”جعلی دستاویزات“ کے ذریعے خود کو معصوم اور بے گناہ ثابت کرنے کی ”بھونڈی“ کاوشیں شروع ہوگئیں ہر کمال کو مگر ایک دن زوال کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ نواز شریف کے مخالفین کا اصرار ہے کہ شریف خاندان کا وقت زوال آپہنچا ہے۔ اب نواز شریف اور ان کے بچوں کے لئے اقتدار سے محرومی کے علاوہ مختلف النوع فوجداری مقدمات کا سامنا کرنے کے علاوہ کوئی راستہ ہی باقی نہیں رہا ہے۔
میں ذاتی طورپر نواز شریف کا پرستار نہیں رہا۔ بطور صحافی ان کی گزشتہ دونوں حکومتوں کے دوران ثابت قدمی سے تنقید کرتا رہا اور اس تنقید کی اپنے حوالے سے ضرورت سے زیادہ سزا بھی بھگتی۔ عمر بڑھنے کے ساتھ مگر آپ وقتی اشتعال اور اُبال سے خود کو بچانا سیکھ لیتے ہیں۔ اپنی اشرافیہ کو کئی برسوں تک بہت قریب سے دیکھنے کے بعد فیض احمد فیض کا اٹھایا ایک سوال بھی ذہن میں جاگزیں ہوجاتا ہے۔ جی ہاں وہی سوال جو ”شہر جاناں میں اب باصفاکون ہے؟“ والے مصرعے میں بیان ہوا ہے۔
ملکی سیاست کے ڈرامائی لمحات اور کرداروں سے خود کو لاتعلق کرلینے کے بعد بھی میں ابھی تک اس بات پر کامل یقین رکھتا ہوں کہ پاکستان کی بقاءاور خوش حالی کے لئے ضروری ہے کہ جمہوری عمل توانا سے توانا تر ہوتا رہے۔ ہمارے ہاں آزادی¿ اظہارکے چشمے رواں رہیں۔ نئے خیالات کے سوتے خشک نہ ہوں۔
جمہوری عمل کی ساکھ کر برقرار رکھنے کی خاطر ہی میں نے انتہائی دیانت داری سے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ گریڈ 18سے 20تک کے افسروں پر مشتمل کمیٹی کے روبرو پیش ہونے سے پہلے آئینی طورپر اس ملک کے ”چیف ایگزیکٹو“ کہلاتے نواز شریف اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔ وہ نجانے کس برتے پر وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی اس کمیٹی کے روبرو پیش ہوگئے۔ بالآخر JITکی جو رپورٹ منظرِعام پر آئی اس نے مجھے تو ”سو پیاز اور سو جوتے“ والا معاملہ ہی دکھایا۔
اس کے باوجود میری خواہش رہی کہ اس رپورٹ میں لگائے الزامات کا دفاع نواز شریف اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد کریں۔ میری یہ خواہش بھی لیکن اب پوری ہوتی نظر نہیں آرہی۔ باوثوق ذرائع کو خوب کریدنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ نواز شریف لاہور کی گلیوں میں اکثر دہرائے ”ککھ نئی ریااپناتے تیلا نئی رہن دیناکسے دا“والے محاورے پر عمل پیرا ہونے کو تلے بیٹھے ہیں۔ ”کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے“ والا ذہن بنالیا گیا ہے۔
میرے لئے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مگر اب یہ طے کرنا بھی ا نتہائی مشکل ہورہا ہے کہ نواز شریف کا یہ فیصلہ ”درست“ ہے یا ”غلط“۔محض اتنا عرض کرسکتا ہوں کہ حالات کا جبر ہے۔ اس سے مفر ممکن ہی نہیں رہا۔JITکی رپورٹ میں دئیے کئی ایک واقعات کو بہت چسکے دار بناکر ہمارے ریگولر اور سوشل میڈیا میں نواز شریف اور ان کے بچوں کی مسلسل بھداُڑائی جارہی ہے۔ مجھ ایسے متوسط طبقے کے لوگوں کی طرح ”لوگ کیا کہیں گے“ والا خوف مگر اشرافیہ کے ذہنوںکو مفلوج نہیں کرتا۔ ان کی ذات وکردار پر حملے ہوں تو حکمران انہیں درباری سازشیں گردانتے ہیں اور ”سازشی عناصر“ کو ”بے نقاب“ کرنے پر تُل جاتے ہیں۔
JITکی رپورٹ آجانے کے بعد سے نواز شریف 24/7میڈیا کی ”مہربانیوں“ سے ایک کونے میں دھکیل دئیے گئے ہیں۔ گھیرے میں آئی بلی کی طرح ان کے پاس اس وقت خود کو بچانے کا کوئی طریقہ نظر ہی نہیں آرہا۔ جوابی وار ضروری ہوچکا ہے۔ مجھے اُڑتی اُڑتی خبریں ملی ہیں کہ جمعہ یا ہفتے کے روز وہ ایک باقاعدہ پٹیشن کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجو ع کریں گے۔یہ ان کی جانب سے جوابی وار کا مگر صرف پہلا مرحلہ ہوگا جس کے بعد ایک طویل جنگ شروع ہوجانی ہے۔ حالات کا جبر- جس میں ایک دوسرے کی جان کے درپے فریقین ہیں-ہم ایسے لوگوں کے پاس ان متحارب فریقین میں سے کسی ایک کی حمایت یا مخالفت کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں بچے گا۔ اگرچہ دُکھ مجھے یہ بھی ہے کہ بالآخر اس جنگ کے اختتام پر کوئی ایک فریق بھی فتح مند یا شکست خوردہ ہوتا نظر نہیں آئے گا۔ شیکسپیئر کے شہرئہ آفاق المیوں کے آخری مراحل والی مکمل تباہی ہمارا مقدر ہوگی جسے روکنا فی الوقت ممکن نظر نہیں آرہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں