329

پی ٹی وی پر حکومتی اقدامات

 محمود الحسن 
ممتازسیاست دان اعتزاز احسن کسی زمانے میں کہا کرتے تھے کہ اس ملک میں دو فوجی ٹرکوں کی مدد سے اقتدار پر قبضہ ہوجاتا ہے۔ ایک ٹرک وزیراعظم ہاؤس روانہ ہوتا ہے، دوسرا پی ٹی وی کا رخ کرتا ہے اورملک میں مارشل لا لگ جاتا ہے۔ اس بیان سے ماضی میں پی ٹی وی کوحاصل سیاسی اہمیت کا پتا چلتا ہے ۔ اس ادارے کی تاریخ جب بھی لکھی گئی اس میں حکمرانوں کا ذکر ضرور آئے گا، جنھیں ہمیشہ یہاں مرکزی حیثیت حاصل رہی اورجنہوں نے سرکاری ٹی وی کو سب اچھا رپورٹ کرنے پر مجبور کئے رکھا، جس کے باعث ان زمانوں میں بھی جب پی ٹی وی کے تفریحی وعلمی پروگراموں کا ڈنکا بجتا تھا، پی ٹی وی خبرنامہ کی ساکھ صفر تھی۔ ضیا دورمیں معروف نیوزکاسٹر ابصار عبدالعلی کو ریگل چوک لاہور میں نوجوانوں نے روک کر احتجاج کیا کہ آپ کیوں جھوٹی خبریں سناتے ہیں۔
پی ٹی وی پر حکومتی اقدامات کی صرف تحسین ہی ہو سکتی ہے، اس بات کودیہات میں رہنے والی سادہ لوح خاتون بھی جانتی تھی ،جیسا کہ ’’ہم بھی وہیں موجود تھے‘‘ کے مصنف اختروقارعظیم نے لکھا ہے کہ ایک بار وہ سیلاب کی کوریج کے لیے گئے تو اس آفت سے متاثرہ خاتون پلنگ نما لکڑی کے تخت پربیٹھی پانی کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ بہتی کنارے پر پہنچی توانھوں نے اس کی فلم بنائی۔ خیال ہوا کہ اس سے کچھ رائے لی جائے۔ بوڑھی خاتون فوراً بات چیت پر آمادہ ہو گئی۔ ریکارڈنگ شروع ہونے سے قبل اختروقارعظیم نے پوچھا کہ اماں کیا بات کریں گی؟ بوڑھی خاتون مسکرائی اورجواب دیا: ’’پی ٹی وی ہے نا بیٹا، مجھے پتا ہے، سب اچھا ہی کہنا ہے۔ ‘‘
اختروقارعظیم پی ٹی وی میں کلیدی عہدوں پر رہے۔ پی ٹی وی کی عمارت میں ان کے ورود نے بہت سی دلچسپ کہانیوں کوجنم دیا، جن میں سے کچھ  کواختروقارعظیم نے سیدھے سادھے اندازمیں بیان کر دیا۔ یہ بات کہی جاتی ہے کہ آدمی چھوٹے چھوٹے معاملات میں اپنے عمل اورردعمل سے پہنچانا جاتا ہے، بڑے معاملات میں اسے خودکو بنا سنوار کر پیش کرنے کا موقع مل جاتا ہے اوروہ شخصیت پرملمع چڑھا لیتا ہے۔ اختر وقار عظیم کی کتاب میں ایسے بہت سے واقعات درج ہیں، جن سے حکمرانوں کے نفسیاتی مطالعے میں مدد مل سکتی ہے۔
ایک دفعہ ذوالفقارعلی بھٹو پی ٹی وی آئے، تقریرشروع کی توکیمرے میں براہ راست دیکھنے کے بجائے، اس ٹی وی سیٹ کی طرف دیکھ کربولنے لگے،جس میں ان کی تصویر نظر آ رہی تھی۔ یوسف بچ (وزیر اعظم کے مشیر اطلاعات) سے درخواست کی گئی کہ وزیراعظم صاحب سے کہیں کہ وہ کیمرے میں دیکھیں۔ یوسف بچ نے حنیف رامے کی طرف اشارہ کیا۔ انھوں نے بال گورنرعاشق قریشی کی طرف لڑھکا دی، جنھوں نے کندھے جھٹک کرلاتعلقی کا اظہارکر دیا۔ یعنی بھٹوصاحب کے وہاں پرموجود حواری اپنے لیڈرسے اس قدرخوف زدہ تھے کہ ایک چھوٹی سی جائز بات ان سے کہنے سے ڈر رہے تھے۔ بھٹو دور میں مسعود نبی نور پی ٹی وی کے منیجنگ ڈائریکٹر بنے توانھوں نے فوراً ہی فرمان صادرکیا کہ ٹی وی پر قائد عوام کو قائد اعظم جتنی اہمیت دی جائے۔ ذوالفقارعلی بھٹوسے متعلق بات ہوئی ہے تواب   تھوڑا بینظیر بھٹو کا ذکر ہو جائے، جنھوں نے ایک باراختروقارعظیم سے ایسی فرمائش کردی کہ وہ حیران رہ گئے۔ لکھتے ہیں: ’’کراچی ٹی وی سینٹرجب ایک بارآئیں توناہید خان نے ان سے کہا کہ جی ایم صاحب! آپ سے وزیراعظم کچھ کہنا چاہ رہی ہیں۔ ‘‘ ان کا خیال تھا کہ وہ ریکارڈنگ کے بارے میں کچھ پوچھ تاچھ کریں گی یا پھر کسی پروگرام پر رائے زنی، لیکن ان کا اندازہ غلط نکلا۔ وزیراعظم بینظیر نے ان سے کہا، ’’ابھی میں نے ٹی وی سینٹرکی طرف آتے ہوئے ویگن کے اڈے پرایک بھٹے والا بیٹھا دیکھا ہے، اس سے دوبھٹے تو منگوا دیں۔ بھٹے آ گئے، اوراس دن وزیراعظم نے چائے کے بجائے ایک بھٹا ہی کھایا۔ چائے وہ بغیر چینی کے پیتی تھیں، کبھی کبھاراس میں ایک چمچہ شہد ڈال لیتی تھیں، جس کا باقاعدہ انتظام کیا جاتا۔ ‘‘ اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ بھٹو دور میں بینظیر ’’انکاؤنٹر‘‘ کے نام سے پروگرام بھی کرتی رہیں، جس میں مختلف میدانوں کے نوجوانوں کومدعوکیا جاتا۔ اختروقارعظیم کا بیان ہے کہ وہ پروگرام کے سلسلے میں بڑی محنت کرتیں، ان کی مصروفیات آڑے آگئیں، اوریہ پروگرام چھ قسطوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔ ضیاء الحق کا دور پی ٹی وی پربڑا بھاری گزرا۔ ملازمین معمولی معمولی باتوں پرمعطل ہوتے۔ ہروقت ان کی جان سولی پر ٹنگی رہتی۔ اختروقارعظیم بھی کشتہ ستم بنے۔ ایک روز دفتر پہنچنے پرمعلوم ہوا کہ وہ معطل ہیں۔ ان دنوں اسپورٹس کا شعبہ دیکھ رہے تھے، اس لیے حیرت ہوئی کہ ان پروگراموں میں قابل اعتراض مواد کی گنجائش کم ہی ہوتی ہے، نہ جانے کیا گناہ سرزد ہو گیا۔ معلوم کیا تویہ جانا: ’’اسی دوران ایک دوست نے ادھرادھرمعلوم کرکے بتایا کہ ایک شام قبل دکھائے جانے والے کشتی کے مقابلے میں ایک پہلوان نے دوسرے کی پٹائی اس حد تک کر دی تھی کہ اس کے چہرے سے خون بہنے لگا، جو صدر صاحب کی صاحبزادی کی طبیعت پرگراں گزرا۔ ان کی شکایت پرمعطلی کا حکم جاری کر دیا۔ ‘‘
ضیاء الحق کی خواہش ہوتی کہ ان کی ہر تقریرکے بعد نیا نغمہ نشر ہو۔ ایک بار تقریر میں یہ شعر پڑھا:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہوجس کوخیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
تقریر کے بعد حکم دیا کہ مسدس حالی میں سے یہ شعراور آگے پیچھے کے کچھ شعر لے کرکسی گلوکارکی آواز میں تقریرختم ہونے پر نشرکر دیے جائیں۔ ٹی وی کے ایم ڈی معروف شاعرضیاء جالندھری تھے، جن کے بارے میں اقبال کا یہ شعرتھوڑی سے تحریف سے اس زمانے میں بہت چلا:
خوش آ گئی ہے ضیا کو جالندھری تیری
وگرنہ شعرترا کیا ہے شاعری کیا ہے
ضیاء جالندھری نے صدرکا پیغام نیچے پہنچایا۔ مسدس میں ضیاء الحق کا تجویزکردہ شعرتلاش کرتے کرتے پی ٹی وی والوں کی مت ماری گئی، لیکن یہ شعرمسدس میں تھا ہی نہیں۔ وہ توخیریت گزری کہ صدرموصوف نے مسدس کا نام لے دیا، جوضخیم نہیں، اس لیے جلد جان چھوٹ گئی، اگروہ اقبال کا شعر بتاتے تو پھر ان کی چاروں اردو کتابوں کوکھنگالنا پڑتا۔ جب یہ پتا چل گیا کہ شعرظفرعلی خان کا ہے، توپھرایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا کہ اس کے آگے پیچھے کے شعرموقع کی مناسبت سے غیرموزوں تھے۔ اس کا حل قتیل شفائی نے نکالا۔ کہا کہ میں نیا نغمہ لکھے دیتا ہوں، بس آپ یہ کریں کہ شعرکو دوہے کے اندازمیں پڑھ کرمیرا نغمہ جوڑدیں، بات بن جائے گی۔ قتیل شفائی کی تجویز کے عین مین ہوا۔ مصنف کے بقول ’’صدرصاحب نے اس نغمے کومسدس حالی کا ایک بند سمجھ کرسنا یا نہیں کچھ کہا نہیں جاسکتا البتہ یہ ضرورہوا کہ صبح صبح پاکستان ٹیلی ویژن کے ایم ڈی کوان کی طرف سے پیغام ملا اتنی جلدی اتنا خوبصورت نغمہ تیارکرنے پر مبارکباد۔ ‘‘
اس دورمیں سنسرکی بڑی سخت پابندی تھی۔ ہر پروگرام نشر ہونے سے پہلے ایک کمیٹی دیکھتی۔ بلھے شاہ کا یہ شعر
مسجد ڈھاڈے مندرڈھاڈے،ڈھاڈے جوکچھ ڈھینڈا
ایک بندے دا دل نہ ڈھائیں، رب دلاں وچ رہندا
عون محمد رضوی نے ایک پروگرام میں ریکارڈ کیا تو سنسرکمیٹی نے مسترد کردیا۔ یہ بات خوش آیند ہے کہ یہ شعر کچھ دن پہلے وزیراعظم نوازشریف نے پڑھا اور ٹی چینلوں پرسنا بھی گیا۔ چلیں ہم اتنا توآگے آگئے ہیں کہ ہمارے حکمران ایسا شعر سنسرکرانے کے بجائے اسے پڑھتے ہیں۔ کچھ لوگ معترض بھی ہوئے ہیں جن میں سے ایک صاحب کو وجاہت مسعود نے جواب بھی دیا ہے لیکن معترضین کا قصور نہیں، بند ذہن سے بلھے شاہ کے شعر پلے نہیں پڑتے ۔ بلھے شاہ کے شعر کی کم علموں نے جو گت بنائی ہے اس پر یہی کہا جا سکتا ہے ۔
شعرمرا بمدرسہ کہ برد
یہ کتاب نوازشریف کے ذکرسے خالی نہیں۔ وہ لکھتے ہیں، ’’میاں نوازشریف کی پہلی وزارت عظمیٰ کے زمانے میں میاں صاحب کے انٹرویو اورخبروں کی کوریج میں اس بات کا خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا کہ ان کی تصویرمیں سرکا پچھلا حصہ دکھائی نہ دے کیونکہ ان کے سرکے اس حصے میں بال کچھ کم تھے جنھیں دکھانا وزیراعظم کوپسند نہ تھا۔ اس حوالے سے باقاعدہ تحریری احکامات جاری ہوئے تھے۔ ‘‘ یہ اس زمانے کی بات ہے، جب ہیرٹرانسپلانٹ شاید اتنا عام نہ تھا، آنے والے برسوں میں شریف برادران نے اپنے گنج کا مسئلہ حل کرلیا، جس سے ان کی شخصیت میں نکھارآیا، اوراس کام کے کرنے والے کوشریف برادران کے سخت ناقد ایاز امیر نے بھی اپنے ایک کالم میں داد دی۔ اختر وقارعظیم بتاتے ہیں کہ جنرل مشرف نے 12 اکتوبرکی رات کو کمانڈو کی جس قمیص کو پہن کر خطاب کیا وہ ان کی اپنی نہ تھی بلکہ ڈیوٹی پر موجود کمانڈو سے مستعار لی گئی تھی۔ اس موقع پر بننے والے گروپ فوٹو میں اس بات کا خاص اہتمام کیا گیا کہ تصویرمیں سوٹ کی پتلون نظر نہ آئے۔
اختروقارعظیم نے ضیا اورمشرف کے فراڈ ریفرنڈم کا زمانہ دیکھا، جس میں پی ٹی وی کی ذمہ داری تھی کہ ظاہرکیا جائے کہ لوگ جوق درجوق ان آمروں کوووٹ دینے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آمروں کے آنے پر مٹھائی بانٹنے والے ریفرنڈم کے وقت ستو پی کرکیوں سوئے رہتے ہیں ؟
ضیا کے اس ریفرنڈم، جس کے بارے میں حبیب جالب نے لکھا:
شہر میں ہُو کا عالم تھا
جن تھا یا ریفرنڈم تھا
اختر وقارعظیم بتاتے ہیں ’’مقامی اور مرکزی سطح پرانتظامیہ نے اہتمام کررکھا تھا کہ پولنگ اسٹیشنوں پرلوگوں کی قطاریں لگی ہوں لیکن جونہی پی ٹی وی کے کیمرہ مین اپنی فلم بنا کر الگ ہٹتے ، قطارمیں کھڑے لوگ بھی ادھر ادھر کھسک جاتے۔ انتظامیہ بھی انھیں وہاں روکے رکھنے کی بس اس حد تک پابند تھی کہ ٹی وی والے اپنی تصویریں بنا لیں۔‘‘
جنرل پرویزمشرف کے ریفرنڈم کے سلسلے میں بھی یہی صورت حال تھی۔ پولنگ اسٹیشن ویران تھے لیکن سرکاری ریڈیو اورٹیلی ویژن برابرریفرنڈم میں لوگوں کی دلچسپی کی خبریں نشرکررہے تھے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان فراڈ ریفرنڈموں کی کل وقتی حمایتی بھی اب دھاندلی پر شور مچاتے ہیں۔
اختر وقار عظیم لمبا عرصہ اسپورٹس کے شعبے کے نگران رہے۔ کرکٹ کے کھلاڑیوں سے ان کا بہت ملنا جلنا رہا۔ اس کتاب میں کرکٹروں کے بہت سے واقعات ہیں۔ 1983ء میں پاکستان ٹیم ظہیرعباس کی کپتانی میں ہندوستان گئی۔ ایک ٹیسٹ جالندھرمیں تھا۔ ضیاء الحق بڑے خوش تھے کہ پہلی باردونوں ٹیمیں ان کے آبائی شہرمیں میچ کھیل رہی تھیں۔ صدر نے فون کیا توظہیرعباس نے کہا کہ وہ اوران کے ساتھی آپ کا آبائی مکان دیکھنے جائیں گے۔ صدر یہ سن کربہت خوش ہوئے، اورظہیرعباس کا مقصد بھی یہی تھا۔ ایسا کوئی پروگرام پہلے سے نہیں تھا، اس لیے اختر وقار عظیم نے ظہیرعباس سے پوچھا: ’’جنرل صاحب کا گھرکہاں ہے کچھ پتا ہے؟‘‘یہ پتا چلانا ہمارا نہیں ہمارے سفارتخانے کے لوگوں کا کام ہے۔ ظہیرنے جواب دیا۔ سفارتخانے والوں کی گھرتلاش کرتے کرتے مت ماری گئی، ایک دوبار انھوں نے اس جھنجھٹ سے جان چھڑانی چاہی لیکن خوشامدی ظہیرعباس راضی نہ ہوئے، انھیں ڈرتھا کہ صدرپاکستان نے واپسی پر پوچھ لیا توکیا ہوگا۔ قصہ مختصر، صدرکا گھرتلاش کرلیا گیا۔
’’پرانی طرزکے بنے گھرکی خالت خاصی خستہ تھی، تقریباً غیرآباد تھا۔ گھرکے برآمدے میں ایک سائیکل والے نے پنکچرلگانے کی دکان کھول رکھی تھی، لیکن گھرکے گیٹ کے ساتھ دیوارمیں نصب جنرل ضیاء کے والد کے نام کی تختی اب بھی موجود تھی۔ ‘‘
اختروقارعظیم نے اس کتاب میں پی ٹی وی سے متعلق شخصیات کوبھی بیچ بیچ میں یاد کیا ہے، جن میں سے سب سے وکھری ٹائپ کے آدمی ہمیں مصلح الدین لگے، جو اپنا مافی الضمیربیان کرنے سے نہیں چوکتے تھے،خواہ سامنے کتنا ہی بااثرشخص کیوں نہ ہو۔ ضیاء دورمیں مشیر اطلاعات جنرل مجیب الرحمٰن کے سامنے کوئی چوں نہ کرتا تھا لیکن مصلح الدین انھیں بھی پلٹ کرجواب دیتے۔ ایک موقع پر جنرل صاحب صدر کی کسی تقریب کی تصویرکشی کے سلسلے میں کئے جانے والے انتظامات پر برہمی کا اظہار کر رہے تھے۔ روشنی کی جا رہی تھی،اس میں کچھ دیر ہو رہی تھی، مصلح الدین بھی وہاں موجود تھے، وہ کچھ دیر تو خاموش رہے، پھربات ان کی برداشت سے باہرہوگئی تو انھوں نے جنرل صاحب کومخاطب کیا: ’’جناب عالی یہ روشنی بہترتصویربنانے کے لیے ضروری ہے، کیمرہ لائٹ مانگتا ہے، یہ کام صرف ایمان کی روشنی سے نہیں ہو سکتا؟‘‘ جنرل مجیب الرحمٰن نے سب کے سامنے یہ سنا اور خاموش رہے۔ ‘‘
ایک بارجنرل مجیب نے جب یہ کہا کہ ’’بی بی سی والے کیسے اتنی اچھی اورخوبصورت فلمیں بنالیتے ہیں؟‘‘اس پرمصلح الدین نے کہا ’’ وہاں وزارت اطلاعات اورسیکرٹری اطلاعات نہیں ہوتے۔ ‘‘
آخرمیں یہ بتاتے چلیں کہ اختروقارعظیم کے والد وقار عظیم اردو کے معروف نقاد تھے۔ اورینٹل کالج میں صدرشعبہ اردو رہے۔ اپنے زمانے کے بڑے ادیبوں سے ان کے دوستانہ مراسم  تھے۔ اختروقارعظیم نے ناموران ادب کو اپنے گھر آتے دیکھا۔ ان سے متاثر ہوئے۔ یوں وہ بڑے علم پرورماحول میں پروان چڑھے۔ استاد دامن بھی وقارعظیم سے ملنے اکثر آتے، ان کے ملنے والوں میں سبھی اردومیں بات کرتے لیکن استاد دامن کا پنجابی میں بات کرنا بچوں کے لیے بڑی دلچسپی کا باعث ہوتا۔ وقارعظیم اردومیں بات کرتے۔ دونوں رمزشناس تھے، اس لیے ایک دوجے کا کہا خوب سمجھتے۔ استاد دامن اکثر اپنے ساتھ ایسے ضرورت مند کو ساتھ لاتے تھے جس کے امتحان میں نمبرکم آئے ہوں اورکسی اچھے کالج میں داخلہ مطلوب ہو۔ سفارش کچھ یوں کرتے تھے، ’’سید صاحب یہ لڑکا میں لے آیا ہوں، نالائقی میں اس کے پورے نمبر ہیں۔ کسی کالج میں داخلہ چاہیے۔ مدد کریں ورنہ اپنا شاگرد بنانا پڑے گا۔ ‘‘میرے والد استاد کی باتیں سن کر ہنستے رہتے اور ان کی خواہش کے احترام میں کہیں نہ کہیں داخلہ دلا دیتے۔
(اختر وقار عظیم کی کتاب سنگ میل پبلی کیشنز نے شائع کی ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں