150

14ویں سوال کے بعد… (1)

بابر اعوان
سوال کرنے والے 6 سے زیادہ تھے۔
ظاہر ہے سوال بے شمار۔ پہلا سوال ہی بڑا عجیب تھا۔ آپ کا دھیان یقیناً “خالو” صاحب والے سوال کی طرف چلا گیا ہو گا‘ جن کا نام، رشتہ اور شناخت پاناما زدہ بھانجے کو 2 گھنٹے 30 منٹ بعد یاد آئی۔ سوال یوں تھا، بابر صاحب آپ “ڈار سیٹ ہوٹل” سنیٹرل لندن میں ٹھہرے تھے؟ پھر رپورٹرز نے ازخود شرارتی قہقہہ بھی لگا دیا۔ ہوٹل کا نام تو یہی تھا مگر مجھے ڈار والے سیٹ کی شرارت فوراً سمجھ آ گئی۔ عرض کیا: ڈار سیٹ میں ٹھہرنا محض ایک اتفاق تھا۔ رپورٹرز کو مزید شرارت سوجھی۔ ایک نے کہا: کیا ہم اسے اتفاق کی فونڈری کہہ لیں۔ ویسے بھی شادی پہلی ہو دوسری، تیسری، چوتھی یا پھر دبئی کے دو عدد مشہور ٹاورز کے سائے میں رہنے والے اماراتی باشندے کی‘ جس کا نام تو اس وقت یاد نہیں آ رہا مگر عرب لوگ پاکستانیوں کو “یا رفیق” اور “یا مسکین” کہہ کر بلاتے ہیں۔ لہٰذا 34 بیویوں کے اس آف شور میاں صاحب کا ازدواجی نام ہم بھی یا رفیق المسکین رکھ سکتے ہیں۔ جس نے 34 شادیاں رچا کر صرف 82 عدد بچے پیدا کرنے کا عالمی ریکارڈ بنا لیا۔ مگر شادی تو شادی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے ایسا اتفاق ہمت اور پیسے والے اتفاقیے ہی کر سکتے ہیں۔ ورنہ بیوی سے خوف زدہ شریف خاوند کے ارمان نئی دلہن لانے کے لئے 30/40 کروڑ حق مہر کا نام سن کر جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ تو لندن کے صحافیوں کے سوالات تھے۔ اب آئیے ذرا قومی منظرنامے پر چھائے ہوئے سوالات کی طرف چلیں۔ 
لیکن ٹھہرے اس سے پہلے مجھے اپنے پیارے سوشل میڈیا کے دُلارے اور آزاد ابلاغ کے روشن ستارے دبنگ ملنگ محترمی حسن نثار صاحب یاد آ گئے۔ بہت دن پہلے اس صاحبِِ طرز ادیب و خطیب دبنگ ملنگ نے کہا تھا “پاکستان حکمرانوں کی چراگاہ ہے۔ جگالی کرنے اور غریبوں کے خون پسینے کا لوٹا ہوا مال ہضم کرنے کے لئے حکمران اشرافیہ کے ٹھکانے ملک سے باہر ہیں”۔ پھر پاناما آ گیا۔ ساتھ صدر ممنون کی بھی سنی گئی‘ اور صدر نے جو سنائی اس سے دبنگ ملنگ کا انکشاف چلتے پھرتے ثبوت میں بدل گیا۔ ہمارے صدر صاحب خادم نہیں پھر بھی اللہ کے فضل و کرم سے قصرِ صدارت میں 2 عدد یادگاریں چھوڑ کر جائیں گے۔ ان کی پہلی یادگار دہلی کا چِکڑ چھولیا ہے جبکہ دوسری پاناما کے آغاز میں دیا گیا صدارتی الہامی یا القائی خطبہ ہے۔ اس خطبے کو جے آئی ٹی کے ایڈوانس رپورٹ بھی کہا جا سکتا ہے۔ سرکاری لانگریو ںکے مطابق، اگر جے آئی ٹی نے 60 دن کی تفتیش میں کوئی سازش کی ہے تو اس میں صدر ممنون حسین کا کردار قانون کی زبان میں (Principle Conspirator) یعنی بڑے اور اولین سازشی والا ہو سکتا ہے۔ خطبے کی جھلکیاں یا جے آئی ٹی کی سازش کا افتتاحی ٹریلر ملاحظہ ہو۔
” یہ جو پاناما لیکس جو آپ نے دیکھا ہے۔ یہ معاملہ جو اٹھا ہے یہ بھی، یہ بھی قدرت کی طرف سے اٹھا ہے۔ اور اس کی وجہ سے پتہ نہیں کون کون سے معاملات اٹھیں گے۔ آپ دیکھیں گے کہ بہت سارے لوگ ہیں‘ جو اپنے بڑے اطمینان سے بیٹھے ہیں کہ جناب ہم نے تو یہ کر لیا‘ وہ کر لیا۔ اُن کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ آپ دیکھیے گا کیسے کیسے لوگ پکڑ میں آئیں گے۔ یہ بات میری یاد رکھیے گا۔ کبھی کوئی واقعہ 2 ماہ کوئی 4 ماہ کے بعد ہو گا۔ کوئی 6 ماہ بعد کوئی 1 سال بعد ہو گا۔ یہ اللہ کا ایک نظام ہے۔ اس کے کردار‘ ذرا ان کے چہرے دیکھیں۔ ان کے چہروں پر نحوست برس رہی ہے۔ پاناما ایسے نہیں‘ یہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ ہے‘ یہ سب کے سب پکڑے جائیں گے۔ کوئی مہینے 2 مہینے بعد کوئی 4 سے 6 ماہ کے اندر اور کوئی سال 2 سال میں۔ ان کے چہروں پر لعنت برس رہی ہے ان میں سے کوئی نہیں بچے گا۔ یاد رکھنا میری بات کو۔۔۔”۔ 
ترقی پسند جاتی اُمرا والی جمہوریت کے خلاف سازش کا واویلا تو خوب ہوا‘ لیکن شیر دل نواز شریف سازشیوں کے چہرے بے نقاب کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔ چونکہ پرنٹ میڈیا کا ہر رپورٹر اور الیکٹرانک میڈیا کا ہر اینکر حکومت سے اس سازش‘ جس کی بُو وزیر اعظم نے سونگھی تھی‘ کے کردار بے نقاب کرنے پر اصرار کر رہا ہے‘ اس لیے ملکی تاریخ کی مقبول ترین حکومت کی تنہائی دور کرنے کے لئے یہ کام وکالت نامہ کر دیتا ہے۔ سازش کا پہلا کردار پاناما لا فرم ہے‘ جس کے کاغذات کو شریف فیملی نے جعلی کہا تھا۔ بیسچن اوبرمائیر نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کا ایک آتشیں حصہ اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ پر اپ لوڈ کیا اور ساتھ کہا: جے آئی ٹی نے سچ کہا ہے۔ پاناما پیپرز سچے ہیں مگر مریم صفدر کا دعویٰ جھوٹا نکلا۔ ساتھ کہہ دیا جے آئی ٹی کی رپورٹ کی تفتیش کے نتائج میں پیراگراف نمبر3 میں واضح طور پر کہا گیا: مریم صفدر نے فرضی اور جھوٹے کاغذات جے آئی ٹی کو دیے‘ جو فوجداری جُرم بنتا ہے۔ یہ کاغذات اپنے جرموں کو کیموفلاج کرنے کے لیے اور سچ کو دبانے کے لیے گھڑے گئے۔ نواز شریف اینڈ کمپنی کے خلاف بُُُو والی عالمی سازش کا دوسرا کردار تھامس فینی ہے‘ جس نے مریم صفدر کے اصلی تے وڈے کاغذات کے خلاف بدبودار سازش کی۔ مسٹر فینی ٹائیپڈ ڈیزائننگ اور ٹائیپوگرافک کے فرانزک برطانوی ایکسپرٹ ہیں۔ انھوں نے سرٹیفائی کیا کہ مریم صفدر صاحبہ کی جانب سے پاکستان کے اعلیٰ ترین فورم کے روبرو کمپیوٹر ٹائپنگ کے جس font (ٹائپنگ حروف کا نمونہ) کو 2006ء کا تحریر کردہ ظاہر کیا گیا‘ وہ دراصل تخلیق ہی 2007 میں ہوا تھا۔ آج کی دنیا سماجی رابطے، سمارٹ فون اور آئی ٹی ٹیکنالوجی کی وجہ سے وہاں پہنچ چکی ہے‘ جہاں پر ہر قسم کا جھوٹ پکڑا جا سکتا ہے۔ لہٰذا نواز شریف صاحب کو آئی ٹی ٹیکنالوجی کی ایجادات میں بھی درست طور پر سازش کی بُو آئی۔ عالمی سازشیوں کا گاڈ فادر دریافت نہیں ہو سکا‘ جس کی وجہ بھی بہت سادہ ہے۔ گاڈ فادر کا لفظ علیحدہ علیحدہ لکھیں یا دونوں کو ملا کر تحریر کریں ہر دو صورتوں میں گاڈ فادر ایک ہی ہو سکتا ہے۔ گاڈ فادر کی رومانوی تشریح میرے دوست سینیٹر شبلی فراز کے ابا جی احمد فراز نے بہت پہلے کر رکھی ہے۔ 
ہم محبت میں بھی توحید کے قائل ہیں فراز 
ایک ہی شخص کو محبوب بنائے رکھنا 
اس لفظی اور معنوی حقیقت کو سامنے رکھیں تو نواز شر یف اینڈ کمپنی کو سازش کی جو بُو آئی اس کا سب سے بڑا مرکز اور موجد گاڈ فادر کی یکہ و تنہا ذات شریف کے علاوہ کوئی اور نہیں۔ 
جے آئی ٹی رپورٹ میں لکھا ہے: نواز شریف سے نیب شریف تک کل 18 عدد مشتبہ پیش ہوئے جن میں معزز نام، پکے وارداتیے‘ سیب کھا کر اسے کیلا کہنے والے‘ کاروباری سیاست اور سرکاری نوکری کرنے والے کئی طرح کے لوگ شامل تھے‘ لیکن ان میں سے وزیر اعظم اور ان کے ہمراہی ملزمان کے علاوہ کسی کو سازش کی بُو نہ آ سکی۔ سازش ابھی جاری ہے‘ لیکن سازشی عناصر کا اگلا ٹھکانہ آلِ شریف کے قریبی دوست شیوخ و شاہ کے ملک ہیں۔ سازش چونکہ محلات میں ہوتی ہے‘ لہٰذا جدہ، دبئی اور دوحہ کی محلاتی سازشوںکی تفصیل میں جانا بہت ضروری ہے۔ 
ارے ارے یہ کیا وہ 14واں سوال کدھر گیا؟
اک فتنہئِ دوراں سرِ عنوانِ ریاست 
پنجاب کے ناکردہ گناہوں کی سزا ایک
اک ضیغمِ سرکار ممولوں کی نظر میں
شداد کی جنت میں غریبوں کا خدا ایک
ہر چند بڑے صاحبِ گفتار ہیں دونوں 
اُمت کی وزارت کے لیے عار ہیں دونوں
(جاری)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں